17 جولائی 2012 - 19:30

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے تل ابیب میں اسرائیلی حکام سے ملاقات میں کہا کہ کہ امریکہ اپنی تمام ترطاقت کے ذریعہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کی توسیع کوروکنے کوشش کرے گا ۔

ابنا: ہیلری کلنٹن نے پیر کے دن اسرائیل کے صدر شیمون پرز  اور اسرائیلی وزیر اعظم  بنیامین نیتنیاہو سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جو تجاویز پیش کی ہیں ان  سے مذاکرات کی پیشرفت میں کوئی مدد نہيں ملی ہے ۔لیکن صراحت کے ساتھ کہا کہ تمام ممالک ایران کے ایٹمی مسئلے کے حل کے بارے میں صرف سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں ۔ایران کے خلاف اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کوئی نئی بات نہیں ہے  ۔ امریکی اور اسرائیلی حکام  کی تل ابیب اور واشنگٹن   زیادہ آمد و رفت کے پش نظر ہیلری کلنٹن کے بیان کا دو طریقوں سے  جائزہ  لیاجاسکتا ہے ۔ایک ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام  ہے اور دوسرے ایران اور گروپ پانچ کے درمیان مذاکرات کے بارے میں کلنٹن کے بیان میں ایران کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کی نفی ہے جن سے واشنگٹن کی نظر میں مذاکرات کی پیشرفت میں کوئی مدد نہیں ملی ہے ۔ کلنٹن کے بیان کے خلاف ایران ، مذاکرات میں شفاف اور منطقی طور پر آگے بڑھنے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے اور اس سلسلے میں مختلف ممالک کے ساتھ مختلف مسائل منجملہ ایٹمی پروگرام کے بارے میں گفتگو اور تعاون کر نے کے لئے تیار ہے اور ایران کی تاکیدہے کہ یہ موضوع واضح طریقہ سے حل ہوناچاہئیے ۔ بے بنیاد دعؤوں کے باوجود ا ین پی ٹی معاہدے کے تحت ایران کی ایٹمی سرگر میاں جاری ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ کا بیان ایران پر دباؤ بڑھانے کے بہانے پرانے دعؤوں کی تکرار ہے ۔

مغرب نے ماسکو اجلاس میں اپنے مطالبات کو پہلے کی نسبت کھل کر دہرایا ہے جس میں بیس فیصد یورنیم  افزودگی کے عمل کوروکنے اور تمام بیس فیصد افزودہ شدہ یورنیم کو ملک سے باہر بھیجنا اور قم کی فردو سائٹ کو بند کرنا شامل ہے ، امریکہ کو اگر یہ توقع ہے کہ  ان چیزوں پر عمل درآمد ہوجائے گا تو یہ کہنا چاہئیے کہ اگر ایران اس طرح کےشرائط کو قبول کرلیتا تو پھر گفتگو اورمذاکرات کی ضرورت نہیں تھی ۔ حالانکہ ایران مغرب کے مطالبات کو ناجائز اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف جانتا ہے ،اور اپنی مثبت تجاویز پیش کی ہیں جن میں تفصیل کے ساتھ دوطرفہ اقدامات اور معاہدوں کو بیان کیا گیا ہے ۔ واضح ہے کہ امریکی حکام نے ہمیشہ اسرائیل کے بارے میں اپنی حمایت کی تاکید کی ہے اور اپنی پالیسیوں کے ذریعہ امریکی انتخابات کی اہمیت کے پیش نظر صیہونی لابی کی توجہ کو  اپنی طرف موڑنا چاہتے ہیں ۔ امریکہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ عالمی برادری کو  یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں  عالمی تشویش میں تبدیل ہوچکی ہیں ۔

امریکی اور صہیونی حکام کی اس بارے میں تاکید ان کی کوششوں کا ایک نمونہ ہے ۔ ماسکو مذاکرات سے قبل اور ماسکو مذاکرات کے وقت صہیونی حکام  آشکارہ طور پر مذاکرات کے بارے میں مداخلت کرتے رہے ہیں کہ مغرب کو چاہئیے کہ وہ ایران کے خلاف  کھل کر دباؤ میں اضافہ کریں ،اس سلسلے میں صہیونی حکام نے ایران کے خلاف جنگ پسندانہ الفاظ استعمال کیا اور امریکہ کے ساتھ مل کر اپنے ایجنڈے میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کے عمل کو شامل کرلیاہے ۔

صہیونی حکام اس سے قبل  بھی ایران کے سائنس دانوں کو قتل اور ایران کے خلاف اسٹاکس  نٹ  جیسے بدترین سافٹ وئیر اور ہارڈ وئیر کے ذریعے ایران کی ترقی کو روکنے کی کوشش کی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کوایران کے ایٹمی پروگرام سے کوئی تشویش نہیں ہے اس لئے اعتماد سازی کے لئے مناسب ترین راستہ گفتگو اور مذاکرات  ہے اور ایران نے گفتگو کا راستہ کبھی بھی بند نہیں کیا ہے ، لیکن یاد رہے کہ ایران کبھی بھی دباؤ ، اقتصادی پابندیوں اور دھمکیوں کے سامنے جھکنے والا نہیں ہے ۔

.......

/169